حدیث نمبر: 11248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو عطا نہیں کی گئیں تھیں، میں اس کا اظہار فخر کے طور پر نہیں، بلکہ اللہ کی نعمت اور احسان کے طور پر کر رہا ہوں۔ مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے،ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب و ہیبت دشمن پر طاری کرکے میری مدد کی گئی ہے،اموال غنیمت کو میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے غنیمت کے اموال کسی کے لیے بھی حلال نہیں کیے گئے تھے، میرے لیے ساری زمین کو نماز کیجگہ اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے اور مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے اس دعا کو اپنی امت کے ایسے لوگوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے، جو اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب نہیں کریں گے۔

وضاحت:
فوائد: … سابقہ امتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے مخصوص عبادت خانوں اور گرجا گھروں میں عبادت کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیےیہ گنجائش نکالی گئی ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی مسجد میں نہیں جا سکتا تو وہ زمین کے کسی بھی خطے میں نماز ادا کر سکتا ہے اور اگر وضو اور غسل جنابت کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 402، والبزار: 3460، والطبراني: 11047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2742»