الفتح الربانی
— سوم
بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُوتِيتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ كَانَ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَيُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ عَنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا“ قَالَ الْأَعْمَشُ فَكَانَ مُجَاهِدٌ يَرَى أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسَ وَالْأَسْوَدَ الْجِنَّسیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا گیا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو نہیںدی گئیں، دشمن پر میری ہیبت اور رعب کے ذریعے مدد کی گئی ہے، اس لیے دشمن مجھ سے ایک ماہ کی مسافت پر ہی مرعوب ہو جاتا ہے۔میرے لیےساری زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ بنایا گیا ہے، میرے لیے اموال غنیمت کو حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں، مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا، مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو ئی دعا کریں جو مانگیں گے ملے گا، لیکن میں نے اس دعا کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں سفارش کے طور پر محفوظ کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم میں سے جس آدمی نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا، اسے اس دعا (شفاعت) کا فائدہ ہوگا۔ اعمش راوی کہتے ہیں کہ مجاہد کہا کرتے تھے: سرخ و سیاہ میں سرخ سے انسان اور سیاہ سے مراد جن ہیں۔