الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَلامِهِ ﷺ وَصَمْتِهِ وَمَزَاحِهِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی، گفتگو اور مزاح کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ شَاةً طُبِخَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ ”أَعْطِنِي الذِّرَاعَ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ قَالَ ”أَمَّا إِنَّكَ لَوْ الْتَمَسْتَهَا لَوَجَدْتَهَا“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بکری کا گوشت پکایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ذراع (اگلی ٹانگ )کا گوشت لا دو۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لادی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی دوسری اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ انہوں نے وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لا کر دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: مجھے اس کی اگلی ٹانگ کا گوشت لا دو۔ اب کی بار سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بکری کی اگلی تو دوہی ٹانگیں ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! اگر تم تلاش کرتے تو تمہیں اور بھی مل جاتی۔