حدیث نمبر: 11239
عَنْ سِمَاكٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ قَلِيلَ الضَّحِكِ وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَذْكُرُونَ عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَأَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِهِمْ فَيَضْحَكُونَ وَرُبَّمَا يَتَبَسَّمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سماک کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے، صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں اشعار اور اپنے امور سے متعلقہ باتوں کا ذکر کر کے ہنستے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسااوقات تبسم فرماتے۔

وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ عام دنیوی قانون یہی ہے کہ وہی سربراہ اپنی عوام کے ہاں معزز قرار پاتا ہے، جو کم از کم سنجیدہ اور باوقار ہو، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت و سربراہیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات کا اندازہ ہو جانا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہمیشہ موڈ میں رہتے تھے اور نہ مکمل گھل مل کر ہر خوشی اور لطف اندوزی کے معاملے میں شریک ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11239
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 670، 2322، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21095»