حدیث نمبر: 11238
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو اس قدر واضح ہوتی تھی کہ اسے ہر کوئی بخوبی سمجھ سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز نہ بولتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … بعض لوگ گفتگو کرتے وقت اتنا رک رک کر بولتے ہیں کہ سامعین اکتاہٹ اور بوریت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیز تیز نہ بولنے سے مراد اس طرح رک رک کر بولنا نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو میں اعتدال ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ لفظوں کو جلد بازی سے ادا کرتے تھے کہ ان میں التباس پیدا ہو جائے اور نہ اتنا ٹھہر ٹھہر کو بولتے تھے کہ سامعین کو اگلے کلمے کا انتظار رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11238
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3567،ومسلم: 2493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25591»