الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي شُجَاعَتِهِ ﷺ وَوَفَائِهِ بِالْعَهْدِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شجاعت اور ایفائے عہد کابیان
حدیث نمبر: 11237
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان کے پاس لوٹ کر نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں۔ تم لوٹ جاؤ اور اگر دل میں وہی (قبولیتِ اسلام کی چاہت) رہی، جو اب ہے تو لوٹ آنا۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان اور کافر، دونوں سے کیے گئے معاہدے کی پاسداری ضروری ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقامِ حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ سے طے پانے والے معاہدے کا لحاظ کیا اور سیدنا ابو رافع کو واپس کر دیا۔ سنن ابی داود میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق چلے گئے تھے، بعد میں آ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اسلام، کافروںکے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی کس قدر پاسداری کا قائل ہے، مسلمان کی شان کا اندازہ خود لگا لینا چاہیے۔
قاصدوں کو روک لینے سے عالمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، کسی کاکسی پر کوئی اعتماد نہیں رہتا اور راستے کٹ جاتے ہیں، ہاں کسی قاصد کو کافروں کی طرف واپس کر دینا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر ہی ڈٹا رہے اور اسلام قبول نہ کرے، کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر کے مسلمانوں کے پاس واپس آ جائے۔
قاصدوں کو روک لینے سے عالمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، کسی کاکسی پر کوئی اعتماد نہیں رہتا اور راستے کٹ جاتے ہیں، ہاں کسی قاصد کو کافروں کی طرف واپس کر دینا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر ہی ڈٹا رہے اور اسلام قبول نہ کرے، کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر کے مسلمانوں کے پاس واپس آ جائے۔