الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَمِهِ وَسَخَائِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت کا بیان
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِي أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ أَوْ قَالَ الْفَقْرَ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَاسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ مانگنے کے لیے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دوپہاڑوں کے درمیان وادی میں جتنی بکریاں تھیں، وہ سب اس کو دے دیں، اس نے اپنی قوم سے جا کر کہا: اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس قدر عطا فرماتے ہیں کہ وہ فقر و فاقہ کی بھی پروا نہیں کرتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہونے آتا اور اس کا مقصد حصول دنیا ہی ہوتا، شام ہونے سے پہلے پہلے دین اس کی نظر میں دنیا بھر کی دولت سے بھی بڑھ کر عزیز تر اور محبوب تر ہو جاتا۔