الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَمِهِ وَسَخَائِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت کا بیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ أَصَبْتُ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ ابْنِ عَابِدٍ الْمَرْزُبَانِ فَلَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدُّوا مَا فِي أَيْدِيهِمْ أَقْبَلْتُ بِهِ حَتَّى أَلْقَيْتُهُ فِي النَّفَلِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعُ شَيْئًا يُسْأَلُهُ قَالَ فَعَرَفَهُ الْأَرْقَمُ بْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِيُّ فَسَأَلَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُسیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوۂ بدر کے دن ابن عابد مرزبان کی تلوار مجھے ملی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ مجاہدین کے پاس جو جو چیز ہے وہ واپس کر دیں،تو میں وہ تلوار لے آیا اور اسے مال غنیمت میں ڈال دیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز طلب کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انکار نہ فرماتے تھے۔سیدنا ارقم بن ابی ارقم مخزومی رضی اللہ عنہ نے اس تلوار کو پہچان لیااور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ مانگ لی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ اسی کو عطا فرما دی۔