الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي زُهْدِهِ ﷺ فِي الدُّنْيَا بَعْدَ عَرَضِهَا عَلَيْهِ وَقَنَعِهِ بِالْقَلِيلِ مِنْهَا باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
حدیث نمبر: 11220
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَكْثَرُ مَا عَلِمْتُ أُتِيَ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ بِخَرِيطَةٍ فِيهَا ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،، وہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیلے میں زیادہ سے زیادہ آٹھ سو درہم لائے گئے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۵) والا اور اس کے بعد والا باب۔