الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي زُهْدِهِ ﷺ فِي الدُّنْيَا بَعْدَ عَرَضِهَا عَلَيْهِ وَقَنَعِهِ بِالْقَلِيلِ مِنْهَا باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ قَالَتْ وَكَانَ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ قَالَ مُوسَى أَوْ سَبْعَةٌ قَالَتْ فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا قَالَتْ فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ قَالَتْ ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ ”مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ؟“ قَالَ أَوْ السَّبْعَةُ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ قَالَتْ فَدَعَا بِهَا ثُمَّ صَفَّهَا فِي كَفِّهِ فَقَالَ ”مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ“ابو امامہ بن سہل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے کہا کہ میں اور عروہ بن زبیر ایک دن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے کہا: کاش کہ تم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرض الموت کے دوران دیکھتے، میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھ (یا سات) دینار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں تقسیم کردوں، آپ کی بیماری نے مجھے مشغول رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ان کی بابت پوچھا اور فرمایا: ان چھ دینار وں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، میں آپ کی بیماری میں مصروف رہی اور تقسیم نہ کر سکی۔ آپ نے وہ دینار منگوا کر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمایا: اللہ کے نبی کا کیا حال ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں جا ملے کہ یہ دولت اس کی ملکیت ہو۔