الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي زُهْدِهِ ﷺ فِي الدُّنْيَا بَعْدَ عَرَضِهَا عَلَيْهِ وَقَنَعِهِ بِالْقَلِيلِ مِنْهَا باب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا يُحَوَّلُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ“ إِنْ كَانَ فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً وَتَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ)سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ احد پہاڑ کو آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سونا بنا دیا جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو میں دو دینار بھی چھوڑ کر مروں،الایہ کہ ادائے قرض کے لیے دو دینار چھوڑ جاؤں تو الگ بات ہے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینار، درہم، غلام یا لونڈی وغیرہ چھوڑ کر نہ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک زرہ چھوڑ کر دینا سے رخصت ہوئے، وہ بھی تیس صاع جو کے عوض ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی۔ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جو اہل خانہ کی خوراک کے لیے حاصل کیے تھے۔