حدیث نمبر: 11215
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا فَقُلْتُ لَا يَا رَبِّ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو ۔۔۔۔۔۔۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نِسَائَ ہُ شَہْرًا فاَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَھُوَ فِی غُرْفَۃٍ عَلَی حَصِیْرٍ قَدْ اَثَّرَ الْحَصِیْرُ بِظَھْرِہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کِسْرٰییَشْرَبُوْنَ فِی الذِّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَاَنْتَ ھٰکَذَا فَقَالَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنَّھُمْ عُجِّلَتْ لَھُمْ طَیِّبَاتُھُمْ فِی حَیَاتِھِمِ الدُّنْیَا)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔
(مسند احمد: ۷۹۵۰، مسند بزار: ۳۶۷۶)
گویا نعمتوں کی کثرت میں اس قسم کے خطرے کا امکان ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صورت میں دنیا میں ہی نیکیوں کا عوض دیا جا رہا ہے، درج مثال پر غور کریں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنَ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ … سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11215
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني واھي الحديث، أخرجه الترمذي باثر الحديث: 2347 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22543»