الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَأْفَتِهِ وَرَحْمَتِهِ وَتَوَكَّلِهِ ﷺ وَطَهَارَةِ قَلْبِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالُوا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً ثُمَّ نَدِمْتُ فَقُلْتُ أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ ”أَحْسَنْتِ“یحییٰ بن جزار کہتے ہیں: کہ کچھ صحابہ کرام نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دارانہ امور کے بارے ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے، پھر انہیں اپنی اس بات پر ندامت ہوئی اور انھوں نے کہا: میں نے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رازفاش کر دیا ہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔