حدیث نمبر: 11213
عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ دَخَلَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالُوا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينَا عَنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ سِرُّهُ وَعَلَانِيَتُهُ سَوَاءً ثُمَّ نَدِمْتُ فَقُلْتُ أَفْشَيْتُ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ ”أَحْسَنْتِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یحییٰ بن جزار کہتے ہیں: کہ کچھ صحابہ کرام نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا کر عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ رضی اللہ عنہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دارانہ امور کے بارے ارشاد فرمائیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے، پھر انہیں اپنی اس بات پر ندامت ہوئی اور انھوں نے کہا: میں نے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رازفاش کر دیا ہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے اندر راز دارانہ اور مخفی امور اور گھر سے باہر لوگوں کے سامنے انجام دیئے گئے اعلانیہ امور، دونوں ہی امت ِ مسلمہ کے لیے حجت ہیں، امہات المؤمنین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خدام کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان امور کا علم ہو گیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے اندر سرانجام دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد ان صح سماع يحيي بن الجزار من الصحابة الذي ابھمھم، اخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 741 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27172»