الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَأْفَتِهِ وَرَحْمَتِهِ وَتَوَكَّلِهِ ﷺ وَطَهَارَةِ قَلْبِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت و رحمت، اللہ تعالیٰ پر توکل اور طہارت قلبی کا بیان
حدیث نمبر: 11208
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ فَكَانَ يُحِبُّ مَا خُفِّفَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفَرَائِضِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بعض کام ایسے ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر دائمی عمل کرنا چاہتے تو تھے، لیکن محض اس لیے اسے ترک کر دیتے تھے کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس پر عمل کرنے لگیں اور اللہ کی طرف سے اسے ان پر فرض ہی کر دیا جائے، اللہ کے فرائض میں سے لوگوں پر جو تخفیف کر دی جاتی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی ۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش یہ تھی کہ لوگ کامیاب بھی ہو جائیں، لیکن ان کو مشقت بھی نہ کرنا پڑے، حقیقت ِ حال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ساری کی ساری شریعت آسانی پر مشتمل ہے۔