الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي حِلْمِهِ وَعَفْوِهِ وَحَيَاتِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بردباری، معافی اور حیاء کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ النَّاسُ هَلَكُوا فَقَالَ ”اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ“سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ قبیلہ دوس اللہ کا نافرمان ہے اور انہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بددعا فرمائیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کر لیا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا شروع کی، لوگوں نے سوچا کہ اب قبیلۂ دوس تباہ ہو جائے گا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بد دعا کرنے لگے ہیں)۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! دوس قبیلہ کو ہدایت عطا فرما، اور انہیں مطیع بنا کر ہمارے پاس لے آ،یا اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں مطیع بنا کر ہمارے پاس لے آ۔