حدیث نمبر: 11200
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قُومُوا بِنَا نَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَامُ إِلَيَّ إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ اٹھو تاکہ اس منافق کے بارے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد حاصل کریں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدد طلب کرنے کے لیے میرا ارادہ نہیں کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کا قصد کیا جاتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ یہ منافق، صحابۂ کرام کو اذیت پہنچاتا ہو، اس حدیث میں کھڑا ہونے کا مقصد مدد طلب کرنا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھڑا ہوا جائے۔ اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی متواضع اور منکسرالمزاج شخصیت کے حامل تھے، آپ اپنی تعریف سن کر خوش نہیں ہوتے تھے، بلکہ اپنی تعریف میں مبالغہ سن کر تعریف کرنے والے کو منع فرماتے اور کہتے کہ میں تو محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11200
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة، ولابھام الراوي عن عبادة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23082»