الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا قَالُوا هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا فَقُلْتُ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ السَّلَامَ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ارض شام میں گئے (اس سے آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے) یہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم اپنے ان پیشواؤں کو سجدے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ ہم سے پہلے انبیاء (کی شریعتوں) میں سلام کا یہی طریقہ تھا۔ تو میں نے کہا (اگر بات یہی ہے) تو ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ یہ کام کریں ۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے جس طرح اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کی، اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ باندھے، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے سلام سے بہتر سلام، اہل جنت والا سلام ہمیں دیا ہے۔