حدیث نمبر: 11196
عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قاسم سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ گھر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا مصروفیت ہوتی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ بھی بشر ہی تھے، اس لیے (عام دوسرے انسانوں کی طرح) اپنے کپڑوں کو ٹٹول ٹٹول کر ان میں جوئیں دیکھتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنے کام کر لیتے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی اور عاجزی ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے لیے طرزِ حیات بھی قرار دیا ہے۔ اگر کوئی انسان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سنتوں کا اہتمام کرنے لگے تو اس کی زندگی کئی مشاکل اور تکلّفات سے پاک ہو سکتی ہے۔ ایسے امور کو سر انجام دینے والا آدمی تکبر سے پاک ہو جائے گا اور اس کی عاجزی و فروتنی میں اضافہ ہو گا۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) (الصحیحۃ: ۲۲۱۸) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگوں کو باندھ کر اس کو دوہا۔
اگر کسی آدمی کو زندگی کی روٹین میں ان امور کا موقع نہیں ملتا تو کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان کو سرانجام دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر
بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جو کی روٹی کی دعوت دینے والے غلام کی دعوت قبول کر لیتے تھے۔ (معجم کبرانی طبرانی: ۳/ ۱۶۴/ ۱، صحیحہ: ۲۱۲۵)
اس حدیث میں سب سے اہم بات معاشرے کے انتہائی کمتر فرد کی دعوت قبول کرنا ہے، آجکل اس سنت ِ حسنہ سے مکمل بے رخی برتی جا رہی ہے اور بڑوں اور وڈیروں کی آنکھوں کے اشارے پر لوگ جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ نبوی سنتوں سے عدمِ محبت اور ظاہر پرستی، چاپلوسی اور خوشامد کا نتیجہ ہے۔ دوسرا ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ دعوت قبول کرنے والوں کو دعوت میں پیش کی گئی چیزوں کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ داعی کی طرف سے جو کچھ ملے، ذوق و شوق کا اظہار کرتے ہوئے نوش کر لینا چاہئے، کیونکہ عظیم المرتبت اورعالی منزلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کی دعوت پہ لبیک کہتے تھے جبکہ اس دعوت میں پیش کی جانے والی چیز صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11196
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن حبان: 5675، وابويعلي: 4847 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26724»