حدیث نمبر: 11191
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ قَالَ فَلَطَمَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ تَقُولُ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا قَالَ فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} [الزمر: 68] قَالَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ وَمَنْ قَالَ أَنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ کے بازار میں ایک یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے، اس کے یہ الفاظ سن کر غیرت کے مارے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ رسید کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوتے ہوئے تمہیںیہ کہنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ وہ یہودی شکایت لے کر رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: {وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیہِ أُخْرٰی فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌیَنْظُرُونَ} … اور صور پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں کی مخلوق بے ہوش ہو جائے گی سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہئے گا۔ پھر اس میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو سب لوگ دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت سب سے پہلے میں ہوش میں آکر سر اٹھاؤں گا، لیکن دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے ایک پائے کو پکڑ کر کھڑے ہوں گے، مجھے اس چیز کا علم نہیں ہو گا کہ انھوں نے مجھ سے پہلے ہوش میں آکر سراٹھایا ہو گا یا وہ بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ ہونے والوں میں سے ہوں گے۔ اور (یاد رکھو کہ) جس نے یوں کہا کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) یونس بن متی سے افضل ہوں تو اس نے غلط کہا۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ علی الاطلاق تمام انبیاء و رسل سے افضل ہیں، مگر کسی نبی کا نام لے کر کہناکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں نبی سے افضل، اشرف اور برتر ہیں، ایسا کہنے کی اجازت نہیں، اس طرح ایک طرح سے اس نبی کی بے ادبی کا پہلو نکل سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11191
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4274 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9820»