الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 11190
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ اسْقُونِي فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔