الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کرکہا: اے ہمارے سردار! اور اے ہمارے سردار کے فرزند! اے وہ ذات جو ہم میں سب سے بہتر ہے اور ہم میں سے سب سے افضل کی اولاد ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: لوگو! تم معروف بات ہی کر لیا کرو اور ہر گز شیطان تمہیں غلو میں مبتلا نہ کردے، میں محمد بن عبداللہ اور اللہ کا رسول ہوں، اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو مقام دیا ہے، تم مجھے اس سے اوپر لے جاؤ۔
تواضع کا مطلب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی وانکساری، نرمی و رحمدلی اور محبت و الفت سے پیش آنا، حسب و نسب یا مال و دولت کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کرنا۔وجہ یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقام و مرتبہ، مال و دولت حسب و نسب جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، تو اس کو اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ ان انعامات کے حصول میں اس کی صلاحتیں کارفرما نہیں ہیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اس کے لیے مضرّ ثابت ہو اس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بنظر حقارت دیکھےیا ان پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفعت و منزلت اور عظمت و مرتبت کے انتہائی اعلی مراتب پر فائز تھے، کسی امتی کا آپ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: {وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۂ شعرائ: ۲۱۵) … (اے محمد!) اپنے پیروکار مومنوں سے نرمی سے پیش آؤ۔