الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِهِ الْعَظِيمِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وأتم التَّسْلِيمِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
حدیث نمبر: 11180
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ أَوْ ضَيَّعْتُهُ فَلَامَنِي فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ دَعُوهُ فَلَوْ قُدِّرَ أَوْ قَالَ لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس برس تک خدمت کی۔ (ایک روایت میں نو سال کا ذکر ہے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جو حکم بھی دیا اور پھر مجھ سے اس بارے میں کوتاہی ہو گئییا نقصان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ملامت نہیں کی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں سے کسی نے بھی مجھے برابھلا کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اسے چھوڑ دو،اگر ایسا ہونا مقدر میں ہے تو وہ ہو کر رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہو جانے والے نقصان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقدیر کی طرف منسوب کر کے بچے کو تسلی دے دیتے۔
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی جان کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیساسلوک ہے۔
دس سال کے طویل عرصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمت کرنے والے ایک بچے کو ملامت تک نہیں کیا، سبحان اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا در گزر کرنے کا پہلو تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی جان کے پیاسوں اور اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دینے والے تھے، اب ہمارا اپنے خادموں اور نوکروں کے ساتھ کیساسلوک ہے۔