حدیث نمبر: 11177
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِالصِّبْيَانِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ وَإِنَّهُ قَدِمَ مَرَّةً مِنْ سَفَرٍ قَالَ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ قَالَ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ إِمَّا حَسَنٍ وَإِمَّا حُسَيْنٍ فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے بچوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملایا جاتا، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے اور مجھے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سواری پر اپنے آگے بٹھا لیا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میں سے کسی ایک کو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے پیچھے بیٹھا لیا، پھر ہم اس طرح تین آدمی ایک سواری پر سوار ہو کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکن آجکل بچے بڑی عمر کے لوگوں کے پیار کو ترستے ہیں، اپنے بیٹوں سے پیار کر لینے میں کوئی کمال نہیں، کمال اس میں ہے کہ تمام بچوں سے بلا امتیاز محبت کی جائے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11177
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1743»