حدیث نمبر: 11175
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فَجَبَذَهُ جَبْذَةً حَتَّى رَأَيْتُ صَفْحَ أَوْ صَفْحَةَ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَعْطِنِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موٹے حاشیہ والی ایک نجرانی چادر زیب تن کیے ہوئے تھے، ایک بدو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چادر سے پکڑ کر اتنے زور سے کھینچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن پر چادر کے نشانات نمایاں نظر آنے لگے۔ اس بدو نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہے، مجھے بھی اس میں سے عطا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیئے اور اسے کچھ عطیہ دینے کا حکم صادر فرمایا۔

وضاحت:
فوائد: … امت مسلمہ کے مذہبی اور سیاسی سربراہان کے لیے اس سے بڑا سبق کیا ہو سکتا ہے کہ ایک بدو نہ صرف دونوں جہانوں کے سردار تک رسائی حاصل کر لیتا ہے، بلکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قدر بدسلوکی اختیار کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً مسکرا بھی دیتے ہیں اور کچھ عطیہ دینے کا حکم بھی دے دیتے ہیں،یہ کمال کا حسن اخلاق، بردباری اور صبر ہے، لیکن اس دور میں مذہبی پیشوا ہو یا سیاسی رہنما، غریبوں کا تو ان تک پہنچنا ہی ناممکن ہو گیا ہے، بلکہ اس قسم کے لوگوں سے ملاقات کرنے کو بڑوں کی توہین سمجھا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3149، 5809، ومسلم: 1057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12576»