حدیث نمبر: 11173
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا (وَفِي لَفْظٍ يُخَالِطُنَا) وَكَانَ لِي أَخٌ صَغِيرٌ (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ) وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ لَهُ مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ گھل مل جاتے، میرا ایک چھوٹا بھائی تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرلیا کرتے تھے اور اسے ہنسایا کرتے تھے، اس نے ایک بلبل پال رکھا تھا اور وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، وہ مر گیا، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اسے غمگین دیکھاا ور فرمایا: ابو عمیر کو کیا ہوا، یہ غمگین کیوں ہے؟ گھر والوں نے بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! یہ جس بلبل کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، وہ مر گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو عمیر! بلبل نے کیا کیا؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11173
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 6203، ومسلم: 659 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12161»