حدیث نمبر: 11172
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوَاءَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ {إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} [القلم: 4] قَالَ قُلْتُ حَدِّثِينِي عَنْ ذَاكَ قَالَتْ صَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا فَقُلْتُ لِجَارِيَتِي اذْهَبِي فَإِنْ جَاءَتْ هِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَتْهُ قَبْلُ فَاطْرَحِي الطَّعَامَ قَالَتْ فَجَاءَتْ بِالطَّعَامِ قَالَتْ فَأَلْقَتْهُ الْجَارِيَةُ فَوَقَعَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ وَكَانَ نِطْعًا قَالَتْ فَجَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اقْتَصُّوا (أَوْ اقْتَصِّي شَكَّ أَسْوَدُ) ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكِ فَمَا قَالَ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

بنو سواء ۃ کے ایک فرد سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا، انہو ںنے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ} … بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلیٰ قدروں پر فائز ہیں۔ (سورۂ قلم: ۴) وہ کہتاہے: میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس کی کچھ تفصیل بیان کریں، انہوں نے کہا:میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک کھانا تیار کیا اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا،میں نے اپنی خادمہ سے کہا کہ جاؤ اگر وہ کھانا لے کر آئے اور مجھ سے پہلے کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے لا کر رکھے تو کھانا پھینک دینا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ کھانا لے کر آئیں تو خادمہ نے کھانا پھینک دیا،پیالہ گرکر ٹوٹ گیا، ایک چمڑا بطور دستر خوان بچھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکھرا ہوا کھانا دستر خوان سے جمع کیا اور فرمایا: تم اس کے عوض دوسرا برتن ادا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید کچھ نہیں فرمایا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لابھام الرجل من بني سواء ة الراوي عن عائشة، وشريك النخعي سييء الحفظ، اخرجه ابن ماجه: 2333 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25311»