الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِهِ الْعَظِيمِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ وأتم التَّسْلِيمِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم اخلاق کا بیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينِي بِخُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ أَمَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} [القلم: 4] قُلْتُ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَبَتَّلَ قَالَتْ لَا تَفْعَلْ أَمَا تَقْرَأُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: 21] فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وُلِدَ لَهُسعد بن ہشام سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے ام المؤمنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق سے آگاہ فرمائیں۔ انہوں نے کہا: قرآن ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق تھا، کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ} … بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلیٰ قدروں پر فائز ہیں۔ (سورۂ قلم: ۴) میں نے عرض کیا:میں تبتّل کی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہوں۔انھوں نے کہا: تم ایسا نہ کرو، کیا تم قرآن میں یہ نہیں پڑھتے: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … (یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی اسوہ ٔ حسنہ ہے۔ (سورۂ احزاب:۲۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادیاں کیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد بھی ہوئی۔