الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَشْيهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال کا بیان
حدیث نمبر: 11170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي جَبْهَتِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں دیکھا،یوں لگتا تھا کہ آپ کی پیشانی میں سورج چلتا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا،یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زمین لپیٹ دی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تیز نہیں چلتے تھے، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہنے کے لیے ہمیں خوب تیز چلنا پڑتا تھا۔