حدیث نمبر: 11163
عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ إِذَا حَدَّثَ حَدِيثًا تَبَسَّمَ فَقُلْتُ لَا يَقُولُ النَّاسُ إِنَّكَ أَيْ أَحْمَقُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ أَوْ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا إِلَّا تَبَسَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ جب کوئی بات کرتے تو مسکرا دیتے، میں نے ان سے عرض کیا: آپ اس قدر تبسم نہ کیا کریں، کہیں لوگ آپ کو احمق نہ کہنے لگیں۔ وہ بولے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب بھی بات کرتے دیکھایاسنا تو آپ مسکرا کر بات کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11163
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف ومدلس وقد عنعن، وحبيب بن عمر وأبو عبد الصمد مجھولان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22075»