الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ النَّبُوَّةِ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ ﷺ باب: آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا بیان
حدیث نمبر: 11161
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنِ التَّنُوخِيِّ رَسُولِ هِرَقْلَ أَنَّهُ قَالَ فَجُلْتُ فِي ظَهْرِهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِي مَوْضِعِ غُضْرُوفِ الْكَتِفِ مِثْلِ الْحَجْمَةِ الضَّخْمَةِ (وَفِي لَفْظٍ فَرَأَيْتُ غُضْرُوفَ كَتِفِهِ مِثْلَ الْمِحْجَمِ الضَّخْمِ)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن ابی راشد ہرقل کے قاصد تنوخی سے بیان کرتے ہیں، انھوں نے کہا:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت پر اپنا ہاتھ پھیرا تو کندھے کی نرم ہڈی کے قریب مجھے بڑی سینگی جیسی ابھری ہوئی جگہ یعنی مہر نبوت محسوس ہوئی۔
وضاحت:
فوائد: … دو کندھوں کے درمیان، لیکن بائیں کندھے سے زیادہ قریب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک میں مہرنبوت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر پر واضح طور پر یہ نبوت کی نشانی اور علامت تھی، اس کا سائز اور رنگ بیان کرنے والی مختلف روایات درج ذیل ہیں: ۱۔ مہر نبوت چھپر کھٹ کی گھنڈی (بٹن) کی طرح تھی۔ (بخاری، مسلم)
۲۔ مہر نبوت سرخ رنگ کی گلٹی کی طرح تھی، جیسے کبوتری کا انڈہ ہوتا ہے۔ (مسلم)
۳۔ مہر نبوت اس بند مٹھی کی طرح تھی، جس پر تل ہوں۔ (مسلم)
۴۔ مہر نبوت ابھرے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی مانند تھی۔ (مسند احمد)
۵۔ مہرنبوت شتر مرغ کے انڈے کی طرح تھی۔ (ابن حبان)
۶۔ مہرنبوت سیب کے دانے کی طرح تھی۔ (بیہقی)
۷۔ مہرنبوت بندقہ کی طرح تھی، (جو بیر جتنا پھل ہوتا ہے)۔ (ابن عساکر)
درحقیقت ان روایات میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، ویسےیہ بات بھی مسلم ہے کہ کسی دیکھی ہوئی چیز کو لفظوں میں کما حقہ بیان نہیں کیا جا سکتا، کسی نے مہر نبوت کا حجم بیان کیا، کسی نے کبوتری کے انڈے، شتر مرغ کے انڈے، گھنڈی اور سیب کے دانے کی مثال دے کر اس کیشکل بیان کرنا چاہی، کسی نے اس کے ابھرے ہوئے پن کو سامنے رکھ کر اس کو بند مٹھییا بندقہ سے تشبیہ دے دی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ عمر یا موسم یا محنت و مشقت کی وجہ سے اس کی رنگت وغیرہ میں فرق آ جاتا ہو۔
۲۔ مہر نبوت سرخ رنگ کی گلٹی کی طرح تھی، جیسے کبوتری کا انڈہ ہوتا ہے۔ (مسلم)
۳۔ مہر نبوت اس بند مٹھی کی طرح تھی، جس پر تل ہوں۔ (مسلم)
۴۔ مہر نبوت ابھرے ہوئے گوشت کے ٹکڑے کی مانند تھی۔ (مسند احمد)
۵۔ مہرنبوت شتر مرغ کے انڈے کی طرح تھی۔ (ابن حبان)
۶۔ مہرنبوت سیب کے دانے کی طرح تھی۔ (بیہقی)
۷۔ مہرنبوت بندقہ کی طرح تھی، (جو بیر جتنا پھل ہوتا ہے)۔ (ابن عساکر)
درحقیقت ان روایات میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے، ویسےیہ بات بھی مسلم ہے کہ کسی دیکھی ہوئی چیز کو لفظوں میں کما حقہ بیان نہیں کیا جا سکتا، کسی نے مہر نبوت کا حجم بیان کیا، کسی نے کبوتری کے انڈے، شتر مرغ کے انڈے، گھنڈی اور سیب کے دانے کی مثال دے کر اس کیشکل بیان کرنا چاہی، کسی نے اس کے ابھرے ہوئے پن کو سامنے رکھ کر اس کو بند مٹھییا بندقہ سے تشبیہ دے دی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ عمر یا موسم یا محنت و مشقت کی وجہ سے اس کی رنگت وغیرہ میں فرق آ جاتا ہو۔