الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ النَّبُوَّةِ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ ﷺ باب: آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذَا قُلْتُ لَا قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا بَشَرٌ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي ثُمَّ جَلَسْنَا فَتَحَدَّثَنَا سَاعَةً ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي ابْنُكَ هَذَا قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ حَقًّا قَالَ لَأَشْهَدُ بِهِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ضَاحِكًا فِي تَثْبِيتِ شَبَهِي بِأَبِي وَمِنْ حَلْفِ أَبِي عَلَيَّ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى [الإسراء: 15] الْحَدِيثَسیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ابو جان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے ابا جان نے کہا: ابو رمثہ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: یہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میرا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی عام انسانوں سے الگ تھلگ حیثیت ہوگی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انسان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں تک آ رہے تھے، بالوں پر مہندی کے نشان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں پہن رکھی تھیں، میرے ابونے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا اور ہم بیٹھ گئے، آپ نے کچھ دیر تک ہم سے باتیںکیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے ابا جان نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واقعی؟ انھوں نے کہا: کعبہ کے رب کی قسم! یہی بات درست ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھل کر مسکرا پڑے، کیونکہ میری اپنے باپ کے ساتھ مشابہت بالکل واضح تھی، لیکن اس کے باوجود وہ قسم اٹھا رہے تھے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی} … کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔