حدیث نمبر: 11158
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي حَتَّى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بِرَأْسِهِ رَدْعَ حِنَّاءٍ وَرَأَيْتُ عَلَى كَتِفِهِ مِثْلَ التُّفَّاحَةِ قَالَ أَبِي إِنِّي طَبِيبٌ أَلَا أَبُطُّهَا لَكَ قَالَ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا قَالَ وَقَالَ لِأَبِي هَذَا ابْنُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ روانہ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، میں نے آپ کے سر پر مہندی کے رنگ کا اثر محسوس کیا، میں نے آپ کے کندھے کے قریب سیب کی مانند ابھری ہوئی جگہ دیکھی، میرے والد نے عرض کیا: میں ایک طبیب ہوں، کیا میں جراحی کرکے اسے الگ نہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا طبیب وہ اللہ ہے، جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے والد سے فرمایا: کیایہ تمہارا فرزند ہے؟ میرے والد نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! وہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا، (یعنی دونوں اپنے اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہوں گے)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11158
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه بنحوه ابوداود: 4208، والنسائي: 8/140 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17632»