الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي شَيْبِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کے سفید ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 11147
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ ابْنٌ لِي فَقَالَ ”ابْنُكَ هَذَا؟“ قُلْتُ أَشْهَدُ بِهِ قَالَ ”لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ“ قَالَ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا، میرا بیٹا بھی میرے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیایہ تمہارا بیٹا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں (کہ یہ واقعی میرا بیٹا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے جرم کا وبال دوسرے پر نہیں آتا۔ ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سفید بالوں کو سرخ دیکھا۔
وضاحت:
فوائد: … باپ اور بیٹا، ان میں ہر ایک اپنے جرم کا ذمہ دار خود ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کے گناہ کی وجہ سے دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔