الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ وَجْهِهِ وَشَعْرِهِ ﷺ باب: آپ کے چہرۂ انور اورگیسوئوں کا بیان
حدیث نمبر: 11139
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجُمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے تک ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … عربی میں سر کے لمبے بالوں کے لیے تین لفظ استعمال کیے جاتے ہیں: جُمّہ: وہ بال جو کندھوں تک ہوں یا کندھوں کو چھو رہے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔