الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَلْقِهِ، وَتَنَاسُ أَعْضَائِهِ، وَاسْتَوَاءِ أَجْزَائِهِ وَمَا جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ مِنَ الْكَمَالَاتِ باب: آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
حدیث نمبر: 11130
عَنْ مُحَرِّشٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ لَيْلًا فَاعْتَمَرَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَصْبَحَ كَبَائِتٍ بِهَا فَنَظَرْتُ إِلَى ظَهْرِهِ كَأَنَّهُ سَبِيكَةُ فِضَّةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محرش خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کے وقت جعرانہ سے روانہ ہو کر جا کر عمرہ ادا کیا اور واپس آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جعرانہ میں صبح کی اور یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات یہیں جعرانہ میں ہی بسر کی ہے،میں نے آپ کی پشت پر دیکھا،یوں لگتا تھا کہ وہ چاندی کی تختی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … فوائد: عمرۂ جعرانہ:جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھا،یہ غزوے فتح مکہ کے بعد ۸ھمیں پیش آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کی غنیمتیں جعرانہ کے مقام پر تقسیم کی تھیں،یہ مقام مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ہے اور مکہ مکرمہ سے زیادہ قریب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر راتوں رات عمرہ کر کے واپس آ گئے تھے۔ اس عمرے کا انکار کرنے والوں کو اس کا علم نہیں ہو سکا تھا۔
ان احادیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کیا گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلی مثال ہونے کے ساتھ ساتھ خلقی اور پیدائشی اوصاف میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔
ان احادیث ِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کیا گیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اخلاق کی اعلی مثال ہونے کے ساتھ ساتھ خلقی اور پیدائشی اوصاف میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔