الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَلْقِهِ، وَتَنَاسُ أَعْضَائِهِ، وَاسْتَوَاءِ أَجْزَائِهِ وَمَا جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ مِنَ الْكَمَالَاتِ باب: آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
حدیث نمبر: 11127
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیاں دوسرے اعضا کے مطابق مناسب حد تک باریک تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھلکھلا کر نہیں ہنستے تھے، بلکہ صرف مسکراتے تھے۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتاتویوں محسوس ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھوں میں سرمہ ڈالا ہوا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرمہ نہ ڈالا ہوتا تھا۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں قدرتی طور پر سرمگیں تھیں)۔