حدیث نمبر: 11126
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبَيْنِ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ عَظِيمُ الْفَمِ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شُفْرِ الْعَيْنِ قُلْتُ مَا مَنْهُوسُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ لَحْمِ الْعَقِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سماک کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منہ کشادہ تھا، آنکھوں کی سفیدی میں سرخی تھی اور ایڑیوں کا گوشت کم تھا۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے دریافت کیا کہ ضَلِیعُ الْفَمِ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے کہا: کشادہ منہ والا۔ میں نے پوچھا: أَشْکَلُ الْعَیْنِ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: طویل پلکوں والا۔میں نے دریافت کیا کہ مَنْہُوسُ الْعَقِبِ کا کیا معنیٰ ہے؟ انہوں نے کہا: وہ جس کی ایڑیوں کا گوشت کم ہو۔

وضاحت:
فوائد: … سماک نے أَشْکَلُ الْعَیْنِ کے معانی طویل پلکوں والا بیان کیے، اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ معنی بیان کرتے وقت سماک کو وہم ہو گیا ہے، یا پھر غلطی لگ گئی، ان الفاظ کا وہی معنی درست ہے، جو ہم نے بیان کیا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخی تھی اور یہ حسن کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11126
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21297»