حدیث نمبر: 11122
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبٌ وَجْهُهُ حُمْرَةً طَوِيلُ الْمَسْرُبَةِ ضَخْمُ الْكَرَادِيسِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔(دوسری سند) نافع بن جبیربن مطعم سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو بہت زیادہ دراز قد تھے اور نہ ہی پست قد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر بڑا اور داڑھی گھنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں اور پاؤں پر گوشت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور سرخی مائل سفید تھا، اعضاء کی ہڈیاں مضبوط تھیں، سینہ سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے تو ذرا جھک کر یوں چلتے گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلندی سے اتر رہے ہیں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چال کے بارے میں روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت تیز رفتار تھے، بازار میں چلنے والے شخص کی رفتار سے چلتے تھے، درماندہ اور سست نہ تھے، کوئی آپ کا ساتھ نہ پکڑ سکتا تھا، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر تیز رفتار نہیں دیکھا، گویا کہ زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی۔ ہم تو اپنے آپ کو تھکا مارتے اور آپ بے پروائی سے چلتے رہتے۔
آپ جب قدم رکھتے تو پورا قدم رکھتے، چلتے توجھٹکے سے اٹھتے اور یوں چلتے گویا ڈھلوان سے اتر رہے ہوں، پھر جھٹکے سے پاؤں اٹھاتے اور نرمی سے چلتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11122
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 947»