الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَلْقِهِ، وَتَنَاسُ أَعْضَائِهِ، وَاسْتَوَاءِ أَجْزَائِهِ وَمَا جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ مِنَ الْكَمَالَاتِ باب: آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبٌ وَجْهُهُ حُمْرَةً طَوِيلُ الْمَسْرُبَةِ ضَخْمُ الْكَرَادِيسِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔(دوسری سند) نافع بن جبیربن مطعم سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو بہت زیادہ دراز قد تھے اور نہ ہی پست قد تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر بڑا اور داڑھی گھنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں اور پاؤں پر گوشت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور سرخی مائل سفید تھا، اعضاء کی ہڈیاں مضبوط تھیں، سینہ سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے تو ذرا جھک کر یوں چلتے گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلندی سے اتر رہے ہیں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔
آپ جب قدم رکھتے تو پورا قدم رکھتے، چلتے توجھٹکے سے اٹھتے اور یوں چلتے گویا ڈھلوان سے اتر رہے ہوں، پھر جھٹکے سے پاؤں اٹھاتے اور نرمی سے چلتے۔