الفتح الربانی
— سوم
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ خَلْقِهِ، وَتَنَاسُ أَعْضَائِهِ، وَاسْتَوَاءِ أَجْزَائِهِ وَمَا جَمَعَ اللَّهُ فِيهِ مِنَ الْكَمَالَاتِ باب: آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
حدیث نمبر: 11121
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الرَّأْسِ عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ هَدِبَ الْأَشْفَارِ مُشْرَبَ الْعَيْنِ بِحُمْرَةٍ كَثَّ اللِّحْيَةِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَعَدٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن علی اپنے باپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں خوب موٹی، پلکیں طویل اور آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی گھنی تھی، رنگ خوب روشن تھا، آپ چلتے تو ذرا سامنے کو جھک کر چلتے، گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں، کسی طرف متوجہ ہوتے تو پوری طرح ادھر مڑتے، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم بھرے بھرے تھے۔