حدیث نمبر: 11120
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صِفْهُ لَنَا فَقَالَ كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا وَفَوْقَ الرَّبْعَةِ إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ ضَخْمَ الْهَامَةِ أَغَرَّ أَبْلَجَ هَدِبَ الْأَشْفَارِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ بِأَبِي وَأُمِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یوسف بن مازن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کریں، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ طویل قامت نہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوسط قد سے قدرے دراز تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کے ساتھ کھڑے ہوتے توان سے نمایاں لگتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت چمکیلی سفید تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک بڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور خوب روشن تھا، ابرو آپس میں ملے ہوئے نہ تھے، پلکیں گھنی اور طویل تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک بھرے بھرے تھے،جب چلتے تو قوت سے یوں چلتے جیسے بلندی سے پستی کی طرف جا رہے ہوں، آپ کے چہرے پرپسینہ موتیوں کی طرح چمکتا تھا، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11120
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، يوسف بن مازن لم يدرك عليا،بينھما رجل لم يسمّ، وخالد بن خالد مجھول لايعرف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1300»