الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ فِي مَثَلِهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّبِيِّينَ وَأَنَّهُ خَاتَمُهُمْ باب: انبیاء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال اور اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ“ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ قَالَ قَالَ ”وَلَكِنِ الْمُبَشِّرَاتُ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ ”رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ“سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے، میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات لوگوں پر شاق گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (نبوت ورسالت کا سلسلہ تو بہرحال ختم ہو چکا ہے) تاہم خوش خبریوں کا سلسلہ باقی ہے۔ صحابہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! خوشخبریوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی کا خواب، جو کہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔