حدیث نمبر: 11118
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَالثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِيهَا فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِيهَا وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَكْمَلَهُ وَأَجْمَلَهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ الثُّلْمَةَ فَأَنَا تِلْكَ الثُّلْمَةُ“ وَقِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَ هَذِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے میری اور لوگوں کی مثال ایسے ہے، جیسے کوئی آدمی آگ جلائے، جب آگ خوب روشن ہو جائے تو پتنگے اور پروانے آکر آگ میں گرنے لگیں، میں بھی تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن تم چھڑا چھڑا کے آگ میں جاتے ہو، انبیاء کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک مکمل خوبصورت گھر بنایا، لوگ اس کے گرد گھوم گھوم کر اسے دیکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے بڑھ کر کوئی خوبصورت گھر نہیں دیکھا۔ اس میں صرف یہ تھوڑی سی کمی ہے، پس میں اس کمی کو پورا کرنے والا ہوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11118
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3535، ومسلم: 2286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7318»