الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ خُطبَتِهِ ﷺمِنِّى يَوْمِ النَّحْرِ غَيْرَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجُ باب: دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ ذَاكَ الْيَوْمُ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ ”تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟“ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَقَالَ فِيهِ ”أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ“ مَرَّتَيْنِ ”فَرُبَّ مُبَلَّغٍ هُوَ أَوْعَى مِنْ مُبَلِّغٍ“ مِثْلَهُ ثُمَّ مَالَ عَلَى نَاقَتِهِ إِلَى غُنَيْمَاتٍ فَجَعَلَ يَقْسِمُهُنَّ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ الشَّاةَ وَالثَّلَاثَةِ الشَّاةَ۔( دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب منی میں دس ذوالحجہ کا دن تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ا س پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آج کونسا دن ہے؟ پھر امام احمد کے استاد ہوذہ بن خلیفہ نے امام احمد کے دوسرے استاذ محمد بن ابی عدی کی حدیث کی طرح بیان حدیث کی)، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ دو بار یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر فرمایا: بسااوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ جن لوگوں تک بات پہنچائی جائے، وہ اسے پہنچانے والے سے بہتر یاد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ اونٹنی کو لے کر بکریوں کی طرف تشریف لے گئے اور دو دو تین آدمیوں میں ایک ایک بکری تقسیم کرنے لگے۔