الفتح الربانی
— کتاب
بَابُ خُطبَتِهِ ﷺمِنِّى يَوْمِ النَّحْرِ غَيْرَ مَا تَقَدَّمَ فِي الْحَجُ باب: دس ذوالحجہ کو منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کا بیان،یہ خطبہ حج والے خطبہ سے الگ ہے
حدیث نمبر: 11100
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ حَرْقِ ابْنِ الْحَضْرَمِيِّ حَرَّقَهُ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَ أَشْرِفُوا عَلَى أَبِي بَكْرَةَ فَقَالُوا هَذَا أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ لَوْ دَخَلُوا عَلَيَّ مَا بَهَشْتُ إِلَيْهِمْ بِقَصَبَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) یہ حدیث اسی طرح ہی مروی ہے، البتہ اس میں ان الفاظ: تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے۔ کے بعد ہے: جس دن جاریہ بن قدامہ نے ابن حضرمی کو جلا یا تو اس نے برے ارادہ سے اپنے ساتھیوں سے کہا: اب ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی طرف چلو، لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ ہے، عبد الرحمن یعنی ابوبکرہ کے بیٹے نے کہا: میری ماں نے مجھے بیان کیا کہ ابوبکرہ نے کہا: اگر وہ لوگ میری طرف آتے تو میں اپنے دفاع کے لیے ان کی طرف ایک سر کنڈے کا بھی اشارہ نہ کرتا۔