حدیث نمبر: 111
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَتَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ! أَسْلِمُوا فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر جو چیز بھی مانگ لی جاتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دے دیتے تھے، ایک دفعہ ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بہت ساری بھیڑ بکریاں دینے کا حکم دیا، یہ زکوٰۃ کی بکریاں تھیں اور دو پہاڑوں کے درمیان والی گھاٹی ان سے بھر جاتی تھی۔ وہ بندہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور ان سے کہا: ”اے میری قوم! اسلام قبول کر لو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کثرت سے دیتے ہیں کہ ان کو فاقے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔“

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیاز تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شخصیت پر خرچ کیا اور بڑی مقدار میں خرچ کیا، جبکہ مسجد نبوی اور صفہ سمیت عمارتوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ کفر سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے، دورِ حاضر کے مسلمان اس سنت ِ نبوی کو ترک کر چکے ہیں، بالخصوص مساجدو مدارس کے منتظمین اور فنڈز جمع کرنے والی دوسری تنظیمیں، ہر ایک کی فکر یہ ہے کہ اس کے ادارے اور مسجد کی عمارت شاندار ہونی چاہیے، اس قسم کی ٹائلیں لگنی چاہئیں، مرکزی دروازے پر کشش ہونے چاہئیں، علی ہذا القیاس۔ لیکن اس محلے کے غریب اور فقیر لوگوں کی کسی کو معرفت تک نہ ہو گی اور ائمہ و خطباء و مدرسین کی کفالت کے وقت بخل اور شکووں کا بھوت رقص کرنے لگے گا اور صبر و برداشت کی تلقین شروع ہو جائے گی، اگرچہ یہ لوگ اپنے آپ کو خادمینِ اسلام سمجھتے ہیں، لیکن اِن کو خدمت ِ اسلام کا شعور تک نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الإيمان و الإسلام / حدیث: 111
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2312، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12051 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12074»