حدیث نمبر: 11080
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ الْوَحْيُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبدالعزیز بن رُفیع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور شداد بن معقل ہم دونوں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف یہ چیز چھوڑ کر گئے ہیں جو ان دو گتوں کے درمیان ہے۔ ( یعنی قرآن کریم) اور ہم محمد بن علی کی خدمت میں گئے تو انہوں نے بھی ایسے ہی کہا، عبدالعزیز نے کہا کہ مختار بن ثقفی کہا کرتا تھا کہ اس کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: بَابُ مَنْ قَالَ: لَمْ یَتْرُکِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلَا بَیْنَ الدَّفَّتَیْنِ (اس آدمی کا بیان کہ جس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہیں چھوڑا، مگر وہ چیز جو دو گتوں کے درمیان ہے)
حافظ ابن حجر نے کہا: دراصل یہ باب ان لوگوں پر ردّ ہے، جن کا نظریہیہ ہے کہ حاملین قرآن کی شہادت اور موت کی وجہ سے قرآن مجید کا بہت زیادہ حصہ ضائع ہو گیا، جبکہ یہ ایسا نظریہ ہے، جو رافضیوں نے گھڑا، تاکہ وہ اپنے اس دعوی کو سچا ثابت کر سکیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت یہ بات مسلم تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو امامت و خلافت ملے گی اور یہ حقیقت قرآن مجید میں بھی موجود تھی، لیکن صحابہ نے اس کو چھپا لیا،یہ ایک باطل دعوی ہے، کیونکہ صحابہ نے کچھ نہیں چھپایا۔ (فتح الباری)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11080
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5019 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1909»