الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُخْلَفَاتِهِ ﷺ وَمِیْرَاثِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْتَ وَرِثْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ أَهْلُهُ قَالَ فَقَالَ لَا بَلْ أَهْلُهُ قَالَتْ فَأَيْنَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طَعْمَةً ثُمَّ قَبَضَهُ جَعَلَهُ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ فَرَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَتْ فَأَنْتَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُسیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث آپ ہیںیا ان کے اہل خانہ ہیں؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل خانہ ہی ہیں ،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مال فے میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا حصہ کہاں ہے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی کو کچھ عطا فرماتا ہے پھر نبی کی وفات ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کا نائب ہی اس چیز کا حق دار ہوتا ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ اس حصہ کو مسلمانوں کی طرف لوٹا دوں تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ سن کر کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے یا نہیں؟
حافظ ابن کثیر نے مسند احمد سے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہا: اس کے متن میں غرابت اور نکارت پائی جاتی ہے، ممکن ہے کہ یہ روایت بالمعنی ہو اور بعض راویوں کو سمجھ نہ آئی ہو، جبکہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں، جن میں شیعیت پائی جاتی ہے، اس نقطے کا علم ہونا چاہیے، اس معاملے میں سب سے بہتر یہ الفاظ ہیں: انت وما سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یہی الفاظ زیادہ درست اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حکم، سیادت، علم اور دین کے لائق ہیں۔ (البدایۃ: ۵/ ۲۸۹)