الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُخْلَفَاتِهِ ﷺ وَمِیْرَاثِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترکہ اور میراث کا بیان
حدیث نمبر: 11072
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔