حدیث نمبر: 11066
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعِينَ فَمَكَثَ بِمَكَّةَ عَشْرًا وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا وَقُبِضَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کا آغاز ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک تینتالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے مکہ مکرمہ میں دس سال اور مدینہ منورہ دس سال قیام کیا اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔

وضاحت:
فوائد: … دوسری سند کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہے: بُعِثَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَوْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ وَہُوَ ابْنُ أَرْبَعِینَ سَنَۃً، فَمَکَثَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَبِالْمَدِینَۃِ عَشْرَ سِنِینَ، قَالََ: فَمَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّینَ۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ قرآن کی ابتداء جب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اس کے بعد آپ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس برس مدینہ منورہ میں بسر کئے اور تریسٹھ برس کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا۔
ایک حدیث میں چالیس سال کی عمر میں نزولِ وحی کا ذکر ہے اور دوسری میں تینتالیس برس کا؟ جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ دوسری حدیث میں فترہ وحی کا زمانہ شمار نہیں کیا گیا، وگرنہ وحی کا آغاز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چالیس برس کی عمر میں ہی ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة / حدیث: 11066
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3851 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2017»