الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الحادية عشرة للهجرة— سنہ (۱۱) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي دَفْنِهِ وَقَبْرِهِ وَتَغْسِيرِ الْحَالِ بَعْدَ مَوْتِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر اور بعد از وفات حالات کی تبدیلی کا بیان
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْنَا قَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کر کے واپس آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ارے انس! تمہارے دلوں نے اس بات کو کیسے گوارا کر لیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مٹی میں دفن کر کے واپس چلے آئے۔ (۱۱۰۶۲)۔ اس جسد اطہر کو دفن کرنے کے لیے مٹی تو ڈالنی ہی تھی، بس سیدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور اپنے غم کا اظہار کر رہی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بظاہر تو خاموش ہو گئے، لیکن وہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ مٹی ڈالنا ہمیں بھی گوارا نہ تھا، لیکن کیا کرتے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم جو یہی تھا۔